2.2 اسلامی نظامِ حکومت کی شکل بادشاہت نہیں ہے
2.2 The shape of the Islamic ruling system is not monarchical
اسلامی نظامِ حکومت کی شکل بادشاہت نہیں ہے۔ یہ نہ تو حکومت کی بادشاہت والی شکل کی تائید کرتا ہے اور نہ ہی اس سے مشابہت رکھتا ہے۔ بادشاہت کے نظامِ حکومت میں حکمرانی موروثی ہوتی ہے جہاں بیٹے اپنے باپ سے اختیار اس طرح وراثت میں پاتے ہیں جیسے وہ اپنی جائیداد و ترکہ پاتے ہیں۔ جبکہ اسلام کے نظامِ حکومت میں موروثی حکمرانی کا کوئی تصور نہیں ہے، بلکہ حکمرانی اس شخص کے پاس ہوتی ہے جسے امت اپنی مرضی اور انتخاب سے بیعت کرے۔
The shape of the Islamic ruling system is not monarchical. It neither approves of the monarchical shape of government nor does it resemble it. The ruling in the monarchical system of government is hereditary where sons inherit the authority from their fathers the same way they inherit their legacy. Whereas in the ruling system of Islam, there is no concept of hereditary ruling, rather the ruling is held by whomever the Ummah gives her pledge (of allegiance) to, willingly and selectively.
شاہی نظام بادشاہ کو ایسے خصوصی مراعات اور حقوق فراہم کرتا ہے جو صرف اسی کے لیے مخصوص ہوتے ہیں، اور اسے قانون سے بالاتر کر دیتا ہے اور اسے ذاتی طور پر کسی کے سامنے جوابدہ نہیں رکھتا۔ اسے قوم کی علامت بنا دیا جاتا ہے، جہاں وہ یورپ کے بادشاہوں کی طرح ملک کا مالک تو ہوتا ہے مگر حکومت نہیں کرتا؛ یا پھر وہ مالک بھی ہوتا ہے اور حکمران بھی، بلکہ وہ خود قوانین کا منبع بن جاتا ہے، اور اس طرح ملک اور عوام کو اپنی مرضی کے مطابق چلاتا ہے، جیسا کہ سعودی عرب، مراکش اور اردن کے بادشاہ کرتے ہیں۔