2.2 پہلی ریاست کا قیام
2.2 Establishing the First State
اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات کے طور پر آیا، تاکہ انسانی وضع کردہ قوانین کے ظلم و ستم اور کرپشن کو کچل سکے اور اس کی جگہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے قانون کی عدل و انصاف کو قائم کر سکے۔ نبی کریم ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام نے عرب کے کفار کے خلاف مسلسل فکری اور سیاسی جدوجہد کی۔
Islam came as a complete way of life, arriving to crush the tyranny and corruption of man-made laws, and to replace it with the justice of Allah’s (swt) law. The Prophet (saw) and his companions engaged in a continuous intellectual and political struggle against the disbelievers of Arabia.
ان کی کوششیں کئی سطحوں پر تھیں۔ انہوں نے اپنے اردگرد کے افراد کو اسلام کے پیغام کی طرف بلایا، قطع نظر اس کے کہ ان کا مال و دولت، مرتبہ یا قبائلی حیثیت کیا تھی۔ چند لوگوں نے اس پکار کا جواب دیا، جن میں محمد ﷺ کے چچا حمزہ (رضی اللہ عنہ) جیسے طاقتور لوگ بھی شامل تھے اور بلال (رضی اللہ عنہ) جیسے کمزور لوگ بھی جو کہ ایک حبشی غلام تھے۔
His work was on several levels. He called individuals around him to the Message of Islam, regardless of their wealth, status or tribal position. A few people responded to this call, both the strong like Muhammad’s (saw) uncle Hamzah (ra), and the weak like Bilal (ra) who was an Abyssinian slave.