10.1 انتظامی نظام طرزِ تدبیر ہے، حکمرانی نہیں
10.1 The administrative system is a style of management not ruling
انتظامی نظام کسی کام کو انجام دینے کا ایک طریقہ کار ہے، اور یہ اس کے لیے استعمال ہونے والے ذرائع میں سے ایک ہے، لہٰذا اس کے لیے کسی مخصوص دلیل کی ضرورت نہیں ہے۔ اس کے لیے ایسی عمومی دلیل کا ہونا کافی ہے جو اس کی اصل کی طرف اشارہ کرتی ہو۔ یہ کہنا غلط ہوگا کہ یہ طریقے انسانی افعال ہیں، اس لیے انہیں شرعی قواعد کے مطابق انجام دیا جانا چاہیے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان افعال کے لیے دلیل ان کی اصل کے حوالے سے عمومی شکل میں آئی ہے، چنانچہ اس میں وہ تمام افعال شامل ہیں جو اس اصل سے نکلتے ہیں، الا یہ کہ کسی جزوی عمل کے متعلق کوئی شرعی دلیل موجود ہو، ایسی صورت میں اس عمل کو اس دلیل کی پیروی کرنی ہوگی۔ مثال کے طور پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، "اور زکوٰۃ ادا کرو" [73:20]۔
The administrative system is a style used to perform a task, and is also one of the means used for that, so it does not require specific evidence. It is sufficient for it to have general evidence that indicates to its origin. It would be wrong to say that these styles are human actions, which should therefore be conducted according to the divine rules. This is because the evidence for these actions has come in regards to their origin in a general form, thus it includes all actions that branch out from that origin, unless there is divine evidence that relates to a subsidiary action, in which case the action must follow that evidence. For instance Allah (S.W.T) says, "And pay out the Zakat" [73:20].